ہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو




ہاں فنا میں بقا ہے، ذرا سنبھل کے چلو
یہ خاک خاک شفا ہے ذرا سنبھل کے چلو
ہر ایک ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز
ہر ایک لب پہ صدا ہے، ذرا سنبھل کے چلو
ہیں اس کی خاک کے پردے میں آسمان کئی
زمیں کرب و بلا ہے ذرا سنبھل کے چلو
جہاں سے تم کو پیام و سلام آتے ہیں
وہ شہر، شہر جفا ہے ذرا سنبھل کے چلو
یہ صحن ارض حرم ہے پہ احتیاط قدم
بہت قریب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
ابھی کسی کی جھلک ہے ہر ایک چہرے میں
ابھی یہ زخم نیا ہے ذرا سنبھل کے چلو
جدائیاں یہ کہیں دائمی نہ ہو جائیں
مزاج سب کا جدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
سفر بھی دھوپ کا ہے اور عدیل تلووں کا
ہر ایک زخم ہر ا ہے ذرا سنبھل کے چلو
عدیل زیدی




اپنا تبصرہ بھیجیں