یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں




یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں
کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی
کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں
یہاں رواج ہے ، زندہ جلا دیے جائیں
وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں
عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے ہوئے
وہ خوش ہیں، جیسے کسی باغ سے نکلتے ہیں
یہ لوگ سو رہے ہوں گے، جبھی تو آج تلک
ظرف خاک سے خوابوں بھرے نکلتے ہیں
ستارے دیکھ کے خوش ہوں کہ روز میری طرح
جو کھو گئے ہیں انہیں ڈھونڈنے نکلتے ہیں
ادریس بابر




اپنا تبصرہ بھیجیں