یہی ممکن تھا، میاں ، اس میں کرامت کیسی




یہی ممکن تھا، میاں ، اس میں کرامت کیسی
میں ترے بعد بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے، دونوں اک عمر
مل نہیں پائے مگر اس پہ ندامت کیسی
سو کر اٹھے تو اسی خواب فراموش کی دھن
سیر کا وقت سہی، دل سے فراغت کیسی
کچھ درخت اپنی جڑیں ساتھ لئے پھرتے ہیں
اسے مجبوری سمجھ لیجئے، ہجرت کیسی
دہر میں دل ہی وہ اک پل ہے جو تاریک نہیں
اور کچھ دیر میں ہو جائے گا، عجلت کیسی
ان مشینوں کو بھلا دل سے علاقہ بابر
ان سے مت پوچھ کہ ہو تی ہے محبت کیسی
ادریس بابر




اپنا تبصرہ بھیجیں