بہار دشمن کے نام رقعہ




بہار دشمن کے نام رقعہ
میرے دفاع کے سب منصوبے سارے نقشے
اب میرے اپنے سردار کے قبضے میں ہیں
اور میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے
میرے ترکش میں جتنے بھی تیر رکھے ہیں
ان پر میری ماں کی چادر جھول رہی ہے
میری کماں پر اک تنکے کو تیر بنا کر
میرے قبیلے کے سب گبھرو چور سپاہی کھیل رہے ہیں
چند اک بچے اپنے باپو کے کہنے پر
مجھ کو پاگل پاگل کہہ کر چھیڑ رہے ہیں
تم سے میری اک درخواست ہے اے سردار !
اپنے باج گزاروں میں اب میرا نام بھی لکھ لو
اعجاز رضوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں