کوئی دیا تو شب بھر زیر آب رہے




کوئی دیا تو شب بھر زیر آب رہے
یا پھر اپنی مٹھی میں مہتاب رہے
ڈوبنے والا کشتی میں بھی ڈوب گیا
عمر بھی اپنے پاؤں تلے سیلاب رہے
سب آنکھوں نے روز نویلے خواب بنے
اپنی آنکھوں میں بس تیرے خواب رہے
سورج ڈوب کے چاند ستارے چھوڑ گیا
ہر صورت میں روشن آس گلاب رہے
زخم سجا کے ہم نے دعا ہی دی اعجاز
دشمن سے بھی صاف تمام حساب رہے
اعجاز رضویؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں