قومی کھیل




قومی کھیل
یکدم مرنا
دھیرے دھیرے جی اٹھنا
جی اٹھنا اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے
اپنے ہی دروازے پر دستک دینا
بوجھل آنکھ سے دروازے پر
اپنے نام کی تختی پڑھنا
پھر کچھ سوچ کے اپنے ڈولتے قدموں سے
اور کسی دروازے کی جانب بڑھنا
پھر کچھ سوچ کے رک جانا
کیسا انو کھا کھیل ہمارے ہاتھ لگا ہے
یکدم مرنا
دھیرے دھیرے جی اٹھنا
اعجاز رضویؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں