مساوات




مساوات
یہ صحرا ہے
یہاں سب لوگ پیا سے ہیں
مگر کوئی بھی اپنی پیاس کو ظاہر نہیں کرتا
اچانک دھول کی چادر سے اک چہرہ نکلتا ہے
تو پیا سے اس کی جانب یوں لپکتے ہیں
کہ جیسے آنے والا ان کے قدموں میں ابھی دریا بچھادے گا
ابھی صحرا کی تپتی ریت پر سبزہ اگا دے گا
ابھی اپنی پٹاری سے کوئی شیشہ نکالے گا
تو سب منظر سمٹ کر اس کے شیشے میں
سما جائیں گے ایسے جس طرح پیا سے
کنوئیں کے گرد اکھٹے ہوں
مگر یہ کیا ؟
کہ جس کو دیکھ کر پیاسوں نے اپنی ٹوٹتی ڈھارس
لہو کی ڈور سے باندھی
وہ خوداز لوں کا پیا سا تھا
اعجاز رضویؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں