کوئی تو تھا پس ہوا، آخر شب کے دشت میں




کوئی تو تھا پس ہوا، آخر شب کے دشت میں
ہم سے جو ہم کلام تھا آخر شب کے دشت میں
جیسے کسی کی یاد نے سینے پہ ہاتھ رکھ دیا
جیسے کوئی دیا جلا آخر شب کے دشت میں
ایک ہجوم دلبراں، ایک جلوس رفتگاں
بچھڑا تو ہم سے آملا آخر شب کے دشت میں
اک جو ملال ہجر تھا صبح طلب سے شام تک
ہم نے کہیں گنوا دیا آخر شب کے دشت میں
ایسا لگا کہ اوس میں بھیگے ہوئے درخت سے
موج ہوا نے کچھ کہا آخر شب کے دشت میں
زینہ دل پہ چاپ سی جانے تھی کس خیال کی
درد تلک کوئی نہ تھا آخر شب کے دشت میں
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں