کیا وہاں کام مری طاقت گفتار کا تھا




کیا وہاں کام مری طاقت گفتار کا تھا
میرا تو رول ہی خاموش اداکار کا تھا
دھوپ میں کیسا غنیمت تھا، ہمیں جانتے ہیں
اتنا مدھم سا جو سایہ تری دیوار کا تھا
قدر و قیمت مری تحریر کی کیسے ہوتی
میں مصاحب تھا نہ منشی کسی دربار کا تھا
میرے بچے یونہی بے تاب ہوئے پھرتے تھے
صحن میں عکس فقط شاخ ثمر دار کا تھا
ماں ! اچانک ترے ہاتھوں نے مجھے تھام لیا
یاد آتا ہے کہ منظر کسی منجد ھار کا تھا
بات کرتا تھا وہ ہم رتبہ رفیقوں کی طرح
جس کی پاپوش تلے پر مری دستار کا تھا
کسی گم ظرف کے ہاتھوں نہیں کھائی ہے شکست
خوش میں اس پر ہوں کہ دشمن مرے معیار کا تھا
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں