جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں




جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں
کیا وہ ساعت آپہنچی ہے ؟
جب سارے پل بہہ جاتے ہیں
لنگر ہلتے رہ جاتے ہیں
کوئی چپو ہاتھ نہیں آتا
کوئی کشتی ساتھ نہیں دیتی
کیا وہ ساعت آ پہنچی ہے ؟
جب لفظوں کی شریانوں میں
تاثیر نو سو جاتی ہے
جب جھوٹ کے کوڑے دانوں میں
ہر سچائی کھو جاتی ہے
جب ہونٹ لرزنے لگتے ہیں
تب آنکھیں بولنے لگتی ہیں
جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں
تب روز قیامت ہوتا ہے
کیا وہ ساعت آ پہنچی ہے ؟
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں