حسن بیان قصر کا ایسا بھی اہتمام کیا




حسن بیان قصر کا ایسا بھی اہتمام کیا
گھر تو مکیں کے دم سے ہے ذکر فراز بام کیا
ایک ہمی پہ کس لئے تیری نگاہ التفات
عمر رواں ! تجھے کوئی، اور نہیں ہے کام کیا
کوئی تو آسرا رہے ، خواب وصال ہی سہی
گریہ ہجر کب تلک ، روئیں اسے مدام کیا
چاہئے اک نگاہ شوق ، ورنہ بساط دہر پر
میری خلش کے نرح کیا تیری تڑپ کے دام کیا
مجھ سے حساب روز و شب، اے میری زندگی نہ مانگ
سوختہ دل کی صبح کیا، قریہ نشیں کی شام کیا
اہل نظر کی دین ہے اپنا یہ اعتبار فن
ورنہ ہماری حرف کیا، ورنہ ہمارا نام کیا
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں