تری طلب نے ہمیں کس قدر خراب کیا




تری طلب نے ہمیں کس قدر خراب کیا
کہ ہم نے آپ ہی اپنا سفر خراب کیا
جو کم نظر ہیں ہمیں ان پہ اعتراض نہیں
ہمیں تو آپ نے اہل نظر خراب کیا
کوئی فراق سی راحت، کوئی وصال سا رنج
اسی جنوں نے ہمیں دربدر خراب کیا
شریک رنج سفر ہو کے کیا ملا تجھ کو
بلا جواز ہمارا سفر خراب کیا
جو دل میں آئی اے بام و در پہ لکھ ڈالا
تمہاری طبع رواں نے یہ گھر خراب کیا
ھسین گھر تھے سمندر کے سامنے لیکن
ہوائے نم نے رخ بام و در خراب کیا
ہمیں نکال کے بزم غزل سے کیا نکالا
عدوئے شعر نے باب ہنر خراب کیا
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں