ترے کنول ، مرے گلاب سب دھوئیں میں کھو گئے




ترے کنول ، مرے گلاب سب دھوئیں میں کھو گئے
محبتوں کے تھے جو باب سب دھوئیں میں کھو گئے
ہوائے ہجر نے بجھا دئیے ترے چراغ سب
مرے نجوم و ماہتا ب سب دھوئیں میں کھو گئے
مری دعائیں، التجا ئیں سب ہوا میں اڑ گئیں
ترے حروف باریاب سب دھوئیں میں کھو گئے
تہوں سے دل کی شعلہ فراق اس طرح اٹھا
کہ اس کے بعد اپنے خواب سب دھوئیں مین کھو گئے
جلا رہے تھے کاغذی گھروں میں موم بتیاں
ہو ا نے کھائے بیچھ و تاب سب دھوئیں میں کھو گئے
ہوئیں جو نذر آتش جنوں تمام راحتیں
مرا قلم تری کتاب سب دھوئیں میں کو گئے
وہ گھر تو خواب گاہ کے چراغ نے جلا دیا
کہاں کی نیند ، کیسے خواب سب دھوئیں میں کھو گئے
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں