ترا ہجر ہی پیار ہے




ترا ہجر ہی پیار ہے
وصل کے موسم کا کیا کہنا
لمحہ بھر کے سکھ کے بدلے
پھر وہی حال ہمارا ہے
آنکھ میں ساون کی شامیں
چہرہ درد کا مارا ہے
پلکوں کی ڈھلوان پہ لرزاں
اشک کا دھندلا تارا ہے
مت کر ہم سے وصل کے وعدے
کب اس کیف کا یارا ہے
اور بڑھا دے ہجر کی تلخی
یہی تو ایک سہارا ہے
تجھ سے دور ہی اچھے ہیں ہم
جو بھی حال ہمارا ہے
کیا لینا ہے تجھ سے مل کر
تیرا ہجر ہی پیارا ہے !
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں