یہ دشت ، وہ رہ صحرا بھی مجھ کو دیکھنے دو




یہ دشت ، وہ رہ صحرا بھی مجھ کو دیکھنے دو
اب امتحاں کا نتیجہ بھی مجھ کو دیکھنے دو
اس آئینے پہ تمہارا ہی اختیار سہی
کبھی کبھی مرا چہرہ بھی مجھ کو دیکھنے دو
تعین رہ وہ منزل مجھی کو کرنا ہے
سو، اپنی آنکھ سے رستہ بھی مجھ کو دیکھنے دو
مرے ہی نام سے روشن ہیں بام و در جس کے
اب اس مکاں کا نقشہ بھی مجھ کو دیکھنے دو
شریک رنج سفر تم ضرور ہو لیکن
کوئی تو خواب اکیلا بھی مجھ کو دیکھنے دو
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں