وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوسے میں کرتے ہیں




وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوسے میں کرتے ہیں
ہمیں معلوم ہے پرواز ہم پنجرے میں کرتے ہیں
کوئی صدیاں نہیں لگتیں ہمارے دن بدلنے میں
ہم اپنا فیصلہ بس ایک ہی لمحے میں کرتے ہیں
در و دیوار زنداں سے مخاطب ہو رہے ہیں ہم
وہی کچھ کر رہے ہیں لوگ جو ایسے میں کرتے ہیں
سنی تھی ہم نے بھی شیر ینی گفتار کی شہرت
مگر وہ گفتگو کچھ اور ہی لہجے میں کرتے ہیں
بھٹکتے پھر رہے ہیں آج تک اس جرم عصیاں پر
مذمت رہزن و رہبر کی ہم رستے میں کرتے رہیں
یہ صحرا شام تک ساری گلی میں پھیل جاتا ہے
ہم اپنی صبح کا آغاز جس کمرے میں کرتے ہیں
کسی دن ان فضاؤں میں چہکتے دیکھنا ہم کو
ابھی اس شوق کی تکمیل ہم پنجرے میں کرتے ہیں
اعتبار ساجد
( کتاب – تمہیں کتنا چاہتے ہیں )




اپنا تبصرہ بھیجیں