چاہتوں کے سلسلوں کو بھول جا




چاہتوں کے سلسلوں کو بھول جا
بسنے والے آنسوؤں کو بھول جا
جو بجھا سکتی نہیں ہیں میری پیاس
اے غزال ان ندیوں کو بھول جا
ہو گئے پاؤں ترے جن سے لہو
راہ کے ان پتھروں کو بھول جا
جو نہ آئیں گی پلٹ کر تیرے پاس
اے گلاب ان بلبوں کو بھول جا
مل گئی منزل تو اب خوشیاں منا
راستے کی مشگلوں کو بھول جا
جگمگا سکتے نہیں جو تیری شب
دل مرے ان جگنوؤں کو بھول جا
جو ملا ہے اب اسی پہ شکر کر
خواہشوں اور حسرتوں کو بھول جا
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں