آج سینہ تان کر سچ بول دے




آج سینہ تان کر سچ بول دے
آج اس پنچھی کا پنجرہ کھول دے
بیچتا ہے تو دوائے دل اگر
ایک دو تولہ مجھے بھی تول دے
آ رہا ہے ایک طوفان بلا !
راہ کے ان پتھروں کو رول دے
نیند میں ڈوبی ہوئی ہین بستیاں
لا ذرا ہاتھوں میں میرے ڈھول دے
ساتھ تیرے بھیک مانگوں امن کی
اے مرے گوتم مجھے کشکول دے
اے گیانی کھول پھر اپنی زباں
بھکشوؤں کے کان میں رس گھول دے
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں