گرمی سے سب برف پگھلتی جاتی ہے




گرمی سے سب برف پگھلتی جاتی ہے
وقت کی ناؤ دور نکلتی جاتی ہے
میں نے اس کی رہ میں خواب بچھائے ہیں
اور وہ میرے خواب مسلتی جاتی ہے
اور ہمارے پاس بھلا گیا رکھا ہے
ایک جوانی وہ بھی ڈھلتی جاتی ہے
میرے قسمت میں تو چلنا لکھا ہے
پگڈنڈی بھی ساتھ ہی چلتی جاتی ہے
آنکھوں میں بارش کا موسم ٹھہرا ہے
پھر بھی دل کی بستی جلتی جاتی ہے
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں