دل پر قفل پڑے تھے




دل پر قفل پڑے تھے
ہم خاموش کھڑ ے تھے
اندر تنہائی تھی
باہر درد کھڑے تھے
گاڑی چھوٹ رہی تھی
نین سے نین لڑے تھے
ملنے گیا تھا اس سے
لیکن لوگ بڑے تھے
اس کے تکیے پر بھی
میرے خواب کڑھے تھے
مشکیں کسی ہوئی تھیں
پاؤں میں کیل جڑے تھے
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں