پھول ہوا سے در جاتا ہے




پھول ہوا سے در جاتا ہے
موسم بھی کیا کر جاتا ہے
پت جھڑ کے سوکھے پتوں سے
سارا آنگن بھر جاتا ہے
غم کی پروائی چلنے سے
دل کا پھول بکھر جاتا ہے
جانے والے دیکھا تو نے
کیسے سال گزر جاتا ہے
رات ہوائیں یوں روتی ہیں
تنہا پتا ڈر جاتا ہے
کیسے اجڑے گھر ہوتے ہیں
جب سیلاب گزر جاتا ہے
آؤ دن کو تنہا کر دیں
سورج بھی اب گھر جاتا ہے
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں