وہ کھڑکی میں دیپ جلانا بھول گئی




وہ کھڑکی میں دیپ جلانا بھول گئی
اور ہوا بستی میں آنا بھول گئی
میں بھی اس کو پانی دینا بھول گیا
بیل بھی کوئی پھول کھلا نا بھول گئی
وہ جس بات کی خاطر گھر سے آئی تھی
باتوں میں وہ بات بتانا بھول گئی
ایسی کھوئی رنگ برنگے پھولوں میں
تتلی گھر کو واپس جانا بھول گئی
راہی چلتے چلتے رستہ بھول گیا
پگڈنڈی بھی واپس جانا بھول گیا
پیڑ تو بوئے اس نے میرے آنگن میں
لیکن ان میں پھول کھلانا بھول گئی
آہستہ سے ہاتھ تو میرا تھام لیا
کندھے سے آنچل سرکانا بھول گئی
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں