سمے کی دھول میں ہوں وقت کے غبار میں ہوں




سمے کی دھول میں ہوں وقت کے غبار میں ہوں
نہ جانے کتنے زبانوں سے رہ گزار میں ہوں
مری نہیں مرے دشمن تو اپنی خیر منا
اگرچہ چار طرف سے ترے حصار میں ہوں
ذرا سا کان لگاؤ کہ سن سکو مجھ کو
سحر کی آہٹوں میں شام کی پکار میں ہوں
طلوع ہو گا جب امن و سکون کا سورج
اس انقلاب اسی دن کے انتظار میں ہوں
طویل شب کی سیا ہی سے جو نہیں ڈرتے
شب سیاہ میں تاروں کی اس قطار میں ہوں
جو کھل انہیں گے سردشت و ریگ زار حیات
میں ان ہی پھولوں کے افضال انتظار میں ہوں
افضال فردوس




اپنا تبصرہ بھیجیں