کوئی کسی کے لیے کیوں قطار بانھتا ہے




کوئی کسی کے لیے کیوں قطار بانھتا ہے
کہ انتظار بدن پر غبار باندھتا ہے
میں اس کی قید سے آزاد ہونا چاہتا ہوں
اسی لیے وہ مجھے بار بار باندھتا ہے
اب اپنا بوجھ اٹھانے سے کانپتا ہے بدن
تو کیوں یہ ساتھ مرے کوہسار باندھتا ہے
تمہارا ھال تو چہرے سے پڑھ رہا ہوں میں
کسی دلیل سے کیوں اعتبار باندھتا ہے
تمام سبز پرندے تو اڑ چکے گوہر
تو کیوں درخت پہ پھولوں کے ہار باندھتا ہے
افضل گوہر




اپنا تبصرہ بھیجیں