اس تیرگی مین چاند سمجھ رات کا مجھے




اس تیرگی مین چاند سمجھ رات کا مجھے
میں آخری طراغ ہوں تو مت بجھا مجھے
سارا کمال ہی تری کوزہ گری کا ہے
ورنہ رمیں کی خاک سے بننا تھا کیا مجھے
میں تو کسی شجر کی طرح تھا مگر وہاں
وہ دھوپ تھی کہ سایہ مرا کھا گیا مجھے
یہ زندگی تو ایک بگولوں کا رقص ہے
میں کھو گیا تو کیسے کوئی ڈھونڈتا مجھے
گوہر اسے جلا کے کسی طاق میں نہ رکھ
اس بار روکنی ہے دیے سے ہوا مجھے
افضل گوہر




اپنا تبصرہ بھیجیں