دھوپ رت مین سائے سے سائبان خالی ہے




دھوپ رت مین سائے سے سائبان خالی ہے
اس لیے پرندوں سے آسمان خالی ہے
کون سا سمندر میں ایسا آ گیا طوفان
ساحلی پرندوں سے ہر چٹان خالی ہے
بولتے ہوئے اس سے لفظ کہہ دیے اتنے
خود سے بات کرنے کو اب زبان خالی ہے
حادثہ کوئی کوہر لازما ہوا ہو گا
بیچ شہر میں ورنہ کیوں مکان خالی ہے
افضل گوہر




اپنا تبصرہ بھیجیں