تجھ کو ہر گام پہ کیوں دھوپ کا شک پڑتا ہے




تجھ کو ہر گام پہ کیوں دھوپ کا شک پڑتا ہے
میرا سایہ تو بہت دور تلک پڑتا ہے
مین تو دھرتی پہ اکڑکر بھی نہیں چل سکتا
ایسا کرنے سے مرے سر پہ فلک پڑتا ہے
دیکھنا چاہتا ہوں میں ابھی منظر کی مٹھاس
جانے کیوں آنکھ میں شکوں کا نمک پڑتا ہے
شہر جنگل ہے تو پھر یہ بھی غنیمت جانو
آدمی دور تلک کوئی جھلک پڑتا ہے
تجھ پہ نور آہی گیا ہے تو تکبر مت کر
روشنی لے کے تو ہر چاند چمک پڑتا ہے
افضل گوہر




اپنا تبصرہ بھیجیں