شہر نے رخ کر لیا ہے جب سے گاؤں کی طرف




شہر نے رخ کر لیا ہے جب سے گاؤں کی طرف
دھوپ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے چھاؤں کی طرف
میں تو اپنے آپ سے باہر نکلتا ہی نہیں
دل بھلا آئے گا کیا تیری اداؤں کی طرف
راکھ ہوتی جا رہی ہے شام کی بجھی منڈیر
کیوں جلاتا ہے چراغوں کو ہواؤں کی طرف
جب سے اگ آئی ہیں اس میں چند خود رو جھاڑیاں
دیکھتا رہتا ہے یہ صحرا گھٹاؤں کی طرف
تو نے وہ دستار میرے سر پہ باندھی ہے کہ اب
دیکھنا مشکل ہوا جاتا ہے پاؤں کی طرف
افضل گوہر




اپنا تبصرہ بھیجیں