آپ ہی کیا سبھی کے بس میں نہیں




آپ ہی کیا سبھی کے بس میں نہیں
بھول جانا کسی کے بس میں نہیں
جو مداوا ہے حالت دل کا
تیری چارہ گری کے بس میں نہیں
میں امانت ہوں اور دنیا کی
تو بھی اس زندگی کے بس میں نہیں
تو پری وش ہے تجھ سے کیا شکوہ
آدمی آدمی کے بس میں نہیں
تیری آنکھیں بیان کرتی ہیں
بات جو شاعری کے بس میں نہیں
بیٹھے بیٹھے خیال آتا ہے
معت کیوں زندگی کے بس میں نہیں
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں