ایسا نہیں کہ شہر میں قلت زیادہ ہے




ایسا نہیں کہ شہر میں قلت زیادہ ہے
؂ہم کو محبتوں کی ضرورت زیادہ ہے
یہ زندگی رہین مشیت بھی ہو تو ہو
لیکن رہن چشم عنایت زیادہ ہے
مجھ کو خبر ہے حسن کہانی ہے عارضی
وہ جانتا ہے عشق حقیقت زیادہ ہے
کچھ یوں کہ وہ حواس پہ طاری ہے آج شب
کچھ یوں کہ چاندنی ہے سو وحشت زیادہ ہے
اس کی گئی نہ یاد جھمیلوں میں بھی عطا
اور آج کل تو خیر سے فرصت زیادہ ہے
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں