آدھی رات کو دن تو بنایا جا سکتا ہے




آدھی رات کو دن تو بنایا جا سکتا ہے
اس سورج کو ابھی بلایا جا سکتا ہے
کون ہوس میں سات سمندر پار کرے گا
دریا کے اس پار تو جایا جا سکتا ہے
اپنی راہ میں حائل دریا کیسے سوکھے
لیکن اس پر پل تو بنایا جا سکتا ہے
پیار محبت عشق وغیرہ سب دھوکا ہے
پھر بھی اک آدھ بار تو کھایا جا سکتا ہے
ایک کٹھن سا کام ہے سیدھا چلتے رہنا
ورنہ خود کو راہ پہ لایا جا سکتا ہے
تم سے بچھڑ کر دفتر جاتے سوچتا ہوں میں
کتنی دیر میں واپس آیا جا سکتا ہے
کون کہے اب کھول کے ساری باتیں اس سے
شعر کی خیر ہے شعر سنایا جا سکتا ہے
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں