اس بھرے شہر میں ترا ملنا




اس بھرے شہر میں ترا ملنا
جیسے جنگل میں راستہ ملنا
اس کا میرا ملاپ ایسے ہے
جیسے گمراہ کو خدا ملنا
چاندنی رات کا تو ذکر ہی کیا
جلتے سورج میں اس سے جا ملنا
چھوٹے شہروں کی ایک خوبی ہے
چند لوگوں کا جا بجا ملنا
ہو گا مصروف دنیا داری میں
سوچتا ہوں کہ اس سے کیا ملنا
معجزوں سے بھرے جہاں میں عطا
عین ممکن ہے اس کا آ ملنا
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں