ہم تو اظہار کی بہتری میں عطا سوچتے رہ گئے




ہم تو اظہار کی بہتری میں عطا سوچتے رہ گئے
زندگی کی غزل ختم ہونے لگی قافیے رہ گئے
ان گنت خواہشیں شہر کی دھول میں دھول ہوتی رہیں
کتنے سپنے سہانے ہمارے سر ہانے دھرے رہ گئے
چاندنی صورتوں کی ہوئیں ہجر تیں کس نئے شہر کو
گھر کی رنگین دیوار پر اونگھتے آئنے رہ گئے
ان گنت آسمانی صحیفوں کو چوما نہین زعم میں
کیسے پھولوں سے لوگوں کے لب ان چھوئے رہ گئے
میرے کمرے میں پھیلی کتابوں سے سب شاعری اڑ گئی
اور دیمک زدہ فلسفوں سے بھر ے رتجگے رہ گئے
برف زاروں سے کتنے ہی موسم سہانے گئے شہر کو
ہم تو ڈھلوان پر پانیوں کو عطا روکتے رہ گئے
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں