اس ہوس کار زمانے ہی سے ہمت لے کر




اس ہوس کار زمانے ہی سے ہمت لے کر
اس کے در تک ہی چلے جائیں یہ حسرت لے کر
ہم تہی دست و تہی کف ہیں تو حسرت کیسی
گرم بازاری میں نکلے تھے محبت لے کر
ہم سے بڑھ کر ہی وہ واقف ہے ہمارے دل سے
ڈھونڈتا پھرتا ہے آنکھوں مین شرارت لے کر
شب اندھیری تھی اندھیری ہی رہی پھر صاحب
کیا کیا تم نے بھلا چاند سی صورت لے کر
ایسا سکہ ہے کہ بدلے میں کہیں دل نہ ملا
دربدر گھوم چکے شعر کی شہرت لے کر
ایک مدت کا تعلق ہے مگر کیسے عطا
بے جھجک در پہ چلے جائیں ضرورت لے کر
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں