یہاں آنکھیں نہیں رہنی وہاں چہرہ نہیں رہنا




یہاں آنکھیں نہیں رہنی وہاں چہرہ نہیں رہنا
کہ ان اجزائے ہستی کو یونہی یکجا نہیں رہنا
سدا شامیں نہ گزریں گی ہماری دوپہر جیسی
سدا سورج مزاج یار کا اونچا نہیں رہنا
ہمارے گھر کے کونوں میں کھلیں گے خوبصورت پھول
مگر آنگن تمہارے بعد تو مہکا نہیں رہنا
اسے پڑھنی ہے آخر ان لکیروں میں چھپی قسمت
ہتھیلی پر سدا یہ شعر تو لکھا نہیں رہنا
ابھی وہ دن بھی آنے ہیں اسی شہر خرابی پر
کہ جب رستے تو رہنے ہیں گزر اس کا نہیں رہنا
عطا صاحب رستے تو رہنے ہیں گزر اس کا نہیں رہنا
کہ اس شہر نگاراں کو یونہی بستا نہیں رہنا
احمد عطااللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں