اسے ان راستوں پر یوں بھی اکثر دیکھ لیتے ہیں




اسے ان راستوں پر یوں بھی اکثر دیکھ لیتے ہیں
کہ ہم خوش چہرہ لوگوں کو پلٹ کر دیکھ لیتے ہیں
اسے دیکھے سے اگ آتی ہیں آنکھوں میں ہزار آنکھیں
کہ جیسے خوبصورت گھر کو بے گھر دیکھ لیتے ہیں
بھلے ہوں ہجر کی دھوپیں، سہانے وصل کے بادل
ہم آتے موسموں کو اس کے رخ پر دیکھ لیتے ہیں
کھلے کیا دو دھیا ملبوس کے اندر کی رنگینی
کہ ہم سادہ تو ساحل سے سمندر دیکھ لیتے ہیں
عطا وہ جان لیتی ہے مرے دل میں چھپی خواہش
پس دیوار جیسے سب پیمبر دیکھ لیتے ہیں
احمد عطااللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں