تیری باتوں میں کھو گیا ہو گا




تیری باتوں میں کھو گیا ہو گا
دل تھا، دیوانہ ہو گیا ہو گا
ایک طوفاں ہے عارضہ دل کا
سب کنارے ڈبو گیا ہو گا
اس پہاڑی کا راستہ سنسان
کتنی پلکیں بھگو گیا ہو گا
دھان کے کھیت میں جھکا چہرہ
کوئی خواہش بھی بو گیا ہو گا
پیار ہونے پہ کیسی حیرانی
عین ممکن ہے ، ہو گیا ہو گا
احمد عطااللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں