جنت سے دور آکے زمیں پر بنا لیا




جنت سے دور آکے زمیں پر بنا لیا
عادت تھی بے گھری کی نیا گھر بنا لیا
رکھیں تو قعات خدا سے بھی تم سے بھی
آساں تھی زندگی جسے دوبھر بنا لیا
اچھا وہ آج چاند ہی نکلے نہ شرم سے
بڑھتی ہوس نے شام سے بستر بنا لیا
آنگن مین کیسے کیسے مسائل بچھا دیے
ان عورتوں نے گھر کو بھی دفتر بنا لیا
دیکھیں تو آخرت میں تماشا ہو کیا بپا
ہم نے تو اس جہان کو محشر بنا لیا
اس کو عطا خدا نے بنا یا تھا کچھ حسیں
ہم کو ملا تو اور بھی بہتر بنا لیا
احمد عطا اللہ




اپنا تبصرہ بھیجیں