یہ طبیت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم




یہ طبیت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئیں گے اور غم خوار بن جائیں گے ہم
ہم سر چاک وفا ہیں اور ترا دست ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار ، بن جائیں ہم
کیا خبر تھی اے نگار شعر، تیرے عشق میں
دلبران شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہمارے استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائین گے ہم
اور کچھ چن بیٹھتے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایہ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قر آساں نہ ہو ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے دیکھنا
دست گلچیں کیلئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز




اپنا تبصرہ بھیجیں