جب تک کسی کوش چشم کی نظروں میں رہا میں




جب تک کسی کوش چشم کی نظروں میں رہا میں
بس اتنے شب و روز ہی جی بھر کے جیا میں
اک چاند نے آکر مری آنکھوں میں یوں جھانکا
پھر چاندنی راتوں میں کبھی سو نہ سکا میں
اک بوسہ، کچھ آنسو ، کئی جھلمل سی دعائیں
یہ رخت رہ خواب تھا جب گھر سے چلا میں
اک عمر کے بعد آج پھر آئینہ جو دیکھا
اک بار تو خود کو بھی نہ پہچان سکا میں
جن فستوں کی قسمت میں نہیں مہر و ستارہ
ممکن ہو تو ان ررستوں کا بن جاؤں دیا میں
جاتا بھی کہاں دام تمنا سے نکل کر
صد شکر ترے حلقہ خوشبو میں رہا میں
اعزاز ہوں پر زر کا زمانہ جو ہے یارو !
اب تم سے مراسم کے بھی قابل نہ رہا میں
کرموں کا صلہ آگے ملے گا تو پھر آھمد
اس دنیا میں کس دنیا کی پاتا ہوں سزا میں
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں