پگلی !




پگلی !
سپنوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی !
تم کو کیا معلوم
کہ خواب سے بچھڑے لوگ یہاں کیسے جیتے ہیں
تیری جھیل سی گہری آنکھوں میں تو گوری
نیند کی پریاں روز نہانے آجاتی ہیں
تیرا دل بہلا جاتی ہیں
پر ہم تنہا
درد کی زرد صلیب پہ کب سے لٹک رہے ہیں
جینے کی خواہش میں
موت کی وادی میں ہم بھٹک رہے ہیں
پگلی !
خواب سے بچھڑے لوگ تو
رات کی دلدل میں چپ چاپ اتر جاتے ہیں
اپنی آگ میں جل کر آپ بکھر جاتے ہیں
جینے سے پہلے ہی اکثر مر جاتے ہیں
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں