نجانے کون ہوں، کب سے ہوں اور کون ہوں میں




نجانے کون ہوں، کب سے ہوں اور کون ہوں میں
ترا یقین ہوں، یا اپنا ہی گماں ہوں میں
میں گھر سے بھاگ کے آیا ہوں اور جنگل میں
پھر ایک وحشی قبیلے کے درمیاں ہوں میں
سلگ رہا ہوں میں جس دل کی ساتویں تہہ میں
اسی کی بھول بھری آنکھ سے نہاں ہوں میں
فسون کن کا فسانہ غم ترا ہی سہی
مگر یکون کی تمثیل بے اماں ہوں میں
یہ میرے اشک ستارے ہیں زخم سورج ہے
ککہ اپنی ذات میں اک پوری کہکشاں ہوں میں
میں اپنے ہونے کی اس حد پہ آگیا ہوں فرید
جہاں ترا ہی نہیں اپنا بھی زیاں ہوں میں
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں