سمندر سے جدا ہو کر رہے گا




سمندر سے جدا ہو کر رہے گا
یہ قطرہ بھی ہوا ہو کر رہے گا
مقدر کو نہ مانیں آپ لیکن
مقدر کا لکھا ہو کر رہے گا
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں