یہاں رسم غم کا، فروغ درد کا سلسلہ ہی نہیں رہا




یہاں رسم غم کا، فروغ درد کا سلسلہ ہی نہیں رہا
ترے بعد اب کسی دل میں پیار کا حوصلہ ہی نہیں رہا
تو جہاں سے بچھڑا تھا آج بھی میں وہیں کھڑا ہوں اے جان جاں !
ترے بعد تو مرے سامنے کوئی راستہ ہی نہیں رہا
مرا چہرہ کر کے چٹخ گیا، مرا دل غموں سے تڑخ گیا
وہ غرور عہد جمال کیا مرا آئنہ ہی نہیں رہا
مرا نیل عصر یہ کہہ کے مجھ کو نگل گیا مرے سامنے
کہ اب اس کے دست ضعیف میں تو کوئی عصا ہی نہیں رہا
کبھی کھل کے ہنسنا تو کیا کہ خود سے لپٹ کے رو بھی نہیں سکے
بڑے دن ہوئے ہیں فرید خود سے مکالمہ ہی نہیں رہا
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں