وہ سیل خوش اعتبار اترا نہیں ابھی تک




وہ سیل خوش اعتبار اترا نہیں ابھی تک
ہمارے دل سے تو پیار اترا نہیں ابھی تک
خزاں چمن بھر پہ چھا چکی ہے مگر نظر سے
فسون عکس بہار اترا نہیں ابھی تک
اداس آنکھوں میں تیری تصویر بہہ رہی ہے
تو ان سرابوں کے پار اترا نہیں ابی تک
یہ گرد چھٹ جائے تو تجھے دیکھ پائے خلقت
کہ رخش کن کا غبار اترا نہیں ابھی تک
وہ ایک پل جس نے مجھ کو میرا شعور بکشا
اس ایک پل کا ادھار اترا نہیں ابھی تک
جو کب کا سات آسمان سر کر چکا ہے احمد
زمین پر وہ سوار اترا نہیں ابھیتک
وہ اس کا پہلا اور آخری جلتا بلتا بوسہ
فرید اس کا خمار اترا نہیں ابھی تک
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں