یہ ہم جو اپنے ہی دل کی مدھم صدا سے آگے نکل گئے ہیں




یہ ہم جو اپنے ہی دل کی مدھم صدا سے آگے نکل گئے ہیں
سماعتیں کھو گئیں ہیں یا پھر ہوا سے آگے نکل گئے ہیں
جلی ہوئی سرد انگلیوں سے صنم کدے کر دیے ہیں روشن
خدا کے کچھ با کمال بندے خدا سے آگے نکل گئے ہیں
ہم اب کسی کی عظیم چاہت کے سرخ رستے پہ گامزن ہیں
مقام اجر و ثواب گزرا ، سزا سے آگے نکل گئے ہیں
مرے لئے اب یہ تیرے سجدے یہ تیرے آنسو فضول شے ہیں
مری تباہی کے سلسلے اب دعا سے آگے نکل گئے ہیں
احمد فرید




اپنا تبصرہ بھیجیں