First Valentine’s Day




First Valentine’s Day
تو نے پھول بھیجا ہے
جس میں تیرے ہاتھوں کی
نرم خوشبوئیں بھی ہیں
اور تیری قربت کی
جاگتی کہانی بھی
زندگی کے دریا کی
ناچتی روانی بھی
بات کاٹنے والی
بے دھڑک جوانی بھی
پھول تیری چاہت کی
بولتی علامت ہے
اونگھتے زمانوں کی
جاگتی بغاوت ہے
پھول تیرا قاصد ہے
اور تری نشانی بھی
گفتگو کی دنیا میں
حرف بھی معانی بھی
سوچتا ہوں اس کو میں
کیسے جاوداں کر لوں
اس سے اٹھتنی خوشبو کو
ہجر کی اماں کر لوں
پتیوں کو چپکے سے
ذہن کی کلائی پر
کس کے باندھ لوں، جیسے
کجرے باندھ لیتی ہے
شام کو نئی دلہن
اس کی مور گوں کو میں
تیری آنکھ کے ڈورے
جان کر یہ بینائی
سونپ دوں کہ سپنوں میں
دشمنوں میں اپنوں میں
صرف تو دکھائی دے
سوچتا ہوں یہ لمحہ
قید کر لیا جائے
اس سے پہلے بستی میں
بھاگتے پھر یں سائے
اس سے پہلے خوابوں کا
راستہ بدل جائے
زندگی کا سیدھا پن
زاویوں میں ڈھل جائے
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں