Long Drive ۔ تیرے ساتھ




Long Drive ۔ تیرے ساتھ
موٹر وے پر لانگ ڈرائیو کرنے کو ہم جیون بھر کا حاصل کہتے
ایک سہانے پل کو اپنی ساری عمر سمجھتے رہتے
دنیا بھر سے ایک سے ایک بہانہ کر کے
جب ہم موٹروے پر آتے
موٹروے کچھ اور ملائم اور رواں ہو جایا کرتی
سارے میں ڈن بل کی خوشبو اور گزرتے شہر
اک دو جے بن جو بھی گزری ساری لگتی زہر
سی ڈی پلیئر سے گیت چھلکتے
کیلی، برٹنی اور حدیقہ۔۔۔ ہوا کی صورت باتیں سنتیں
ڈیش بورڈ پر مسکانوں کی بارش ہوتی
پچھلی سیٹ پہ کو مل خواب دھرے ہوئے
اور ارمانوں کے کانچ کی پیکنگ کے اندر
کچھ وعدے تیری میری شوخیاں تکتے اور ہنستے
باہر سورج
اپنا جلتا بلتا چولا چھوڑ کے جیسے
مری کا اپریل ہو جاتا تھا۔۔۔ بیچ مئی اور جون
پھیلنے لگتا آسمان پر وصل نما افسون
اک دو جے کے قرب کا نشہ
روئیں روئیں میں بڑھتا جاتا
اور اسی عالم میں کہتے ۔۔
(اگلے موڑ سے واپس ہوں گے)
اگلے موڑ کے آنے تک دونوں انجان بنے رہتے تھے
اور وہ موڑ گزرتے ہی۔۔۔ دونوں مانوس ہنسی ہنس کر
اک دوسرے سے شکوہ کرتے تھے
یار ۔۔۔۔ یہ اچھی بات نہیں ۔۔۔ بتلایا نہیں
انٹر چینج تو پیچھے رہ گیا دور کہیں
اب کیا ہو گا؟
واپس جاتے جاتے چاند نکل آئے گا
چاند کی ہمرا ہی میں چاند بھلے لگتے ہیں
جئیں لوگ محبت کرنے والے زندہ لوگ
باقی لوگ ۔۔۔ مرے لگتے ہیں
اک دو جے بن موسم درد بھرے لگتے ہیں
کاش سمے کا بہتا دریا رک جائے
لیکن کاش ۔۔۔ تو ۔۔۔کاش ہے نا ۔۔۔!
اگلے موڑ سے مڑ جائیں گے
آخری انٹر چینج گزرنے پر بھی گاڑی ۔۔۔ سیدھی چلتی جاتی اور ہم
بے منزل کے راہی ۔۔۔ جیسے لوٹ کے آنے کا سوچا
تو وہیں پہ ۔۔۔۔ پتھر ہو جائیں گے
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں