Long Drive ۔ تیرے بعد




Long Drive ۔ تیرے بعد
مرے سی ڈی پلیئر سے
کبھی رحمن کے سر بہتے تھے لیکن
تمہارے بعد تو اب کانچ کی پیکر مریحہ کیری کی
روتی ہوئی آواز کا شیشہ۔۔۔
جدائی کے نکیلے پتھروں پہ گرتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے
کوئی چھوٹا سا پھوڑا جیسے آنکھوں میں ۔۔۔
اچانک بڑھتا ہے اور پھوٹ جاتا ہے
تو ہنستی مسکراتی شام کا منظر ۔۔۔
سماں سے روٹھ جاتا ہے
وہ منظر جس کے پردے سے
سنہری دھوپ کے سائے سر کتے ہیں
سنہری دھوپ جس سے دل کا کینوس بے برش رنگین ہوتا ہے
اکیلے پن کی حالت پہ بہت غمگین ہوتا ہے
اکیلا پن بڑا بے دین ہوتا ہے
مجھے لگتا ہے موٹر وے کی وسعت میں
مری خاموش گم سم بھاگتی گاڑی
تھرکتی سسکیوں کا پیرہن پہنے
محبت لین پر سیدھے چلے جانے سے
یا مڑنے کے تذبذب میں
ملن کا شوک پیچھے چھوڑ آئی ہے
سڑک کی آخری منزل جدائی ہے
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں