نیا منظر نظر تو آ رہا ہے




نیا منظر نظر تو آ رہا ہے
مگر رستے مین دشت کربلا ہے
خبر کیا تھی کہ تو نے بھولنے کو
ہمارا نام ہی سوچا ہوا ہے
تنزل ہے کہ مجبوری کا عالم
جنوں ادراک بن کر سوچتا ہے
سحر ہے اور دل کی سرحدوں پر
ترے غم سے اندھیرا ہو گیا ہے
ہوا کا درد سن کر سوچتا ہوں
قفس کس بات پر اترا رہا ہے
تری یادوں کا آتش بار لمحہ
سوا نیزے پہ آ کر رک گیا ہے
سنا ہے میرے شعروں کے نفس سے
غزل کو لہجہ ء نو مل رہا ہے
لہو بن کر رگوں کے مقبروں پر
ترے جانے کا منظر ناچتا ہے
بدلتا جا رہا ہے دل کا موسم
کوئی تو ہے جو اس مین آ بسا ہے
ہوا کیا آخری غم آشنا بھی
تری گلیوں سے واپس آ گیا ہے
بت تخلیق دامن چاک کر کے
در امکاں پہ خاکستر پڑا ہے
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں